کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 375

قرض سے دُور رہو قرض بڑی آفت ہے قرض لے کر جو اگر تا ہے وہ بے غیرت ہے اپنے من پوستم اس سے بڑا کیا ہو گا قرض لے کر جو نہ دے سخت ہی یہ نفرت ہے اخبار المصلح جلد 27 جنوری 1954 ء کراچی پاکستان) فاقوں مر جائے پر جائے نہ دیانت تیری دُور و نزدیک ہو مشہور امانت تیری جان بھی دینی پڑے گر تو نہ ہو اس سے دریغ کسی حالت میں نہ جھوٹی ہو ضمانت تیری غضب خدا کا کہ مال حرام کھاتا ہے نہیں ہے حرص کی صدا صبح و شام کھاتا ہے نماز چھوٹے تو چھٹ جانے کچھ نہیں پروا مگر حرام کی روٹی مدام کھاتا ہے حرام مال پر تو جان و دل سے مرتا ہے وہ جس طرح سے بھی ہاتھ آئے کر گزرتا ہے یہ کیسا پیار ہے اہل و عیال سے تیرا شیکم غریبوں کا انگاروں سے جو بھرتا ہے وقف ہے جاں بہر بال وسیم و زر مال دینے والے سے ہے بے خبر ایسے اندھے کا کریں ہم کیا علاج مغز سے غافل ہے چھنکے پر نکن 370