کلام محمود مع فرہنگ — Page 376
وقف کرنا جاں کا ہے گنب کمال جو ہو صادق وقف میں ہے بے مثال چمکیں گے واقف کبھی مانند بذر آج دُنیا کی نظر میں ہیں ہلال دھیرے دھیرے ہوتا ہے کسب کمال لو بکرے کو بننا پڑتا ہے بلال شمس پہلے دن سے کہلاتا ہے شمس بذر ہوتا ہے مگر پہلے ہلال سے آ کہ پھر ظاہر کریں الفت کے راز یار میں ہو جائیں گم ، عمرت دراز میرے پیچھے پیچھے چلتا آ کہ میں بندۂ محمود ہوں اور تُو تیری الفت کا جو شکار ہوا مر کے پھر زندہ لاکھ بار ہوا سر کو سینہ پر رکھ لیا میرے غم سے جب بھی میں اشکبار ہوا 31 جنوری 1957ء ایاز تیری خوشی گیاہ میں میری خوشی نگاہ میں میرا جہان اور ہے تیرا جہان اور ہے ہیں اسی بحر کے گہرا ہے اسی جیب کا یہ نور ظالمو ! بات ہے وہی لیکن بان اور ہے رسالہ جامعہ انصرت میگزین جلد 4 نمبر 1 بابت ماہ جون 1966 ء 371