کلام محمود مع فرہنگ — Page 360
197 اُس کی پیشیم نیم وا کے میں بھی سرشاروں میں ہوں درمیاں میں ہوں نہ سوتوں میں نہ بیداروں میں ہوں گیرد اس کے گھومتا ہوں روز و شب دیوانہ وار لوگ گر سمجھیں تو بس اک میں ہی ہشیاروں میں ہوں ہم سفر سنبھلے ہوئے آنا کہ رشتہ ہے خراب پر قدم ڈھیلا نہ ہو ئیں تیز رفتاروں میں ہوں خود پلائی ہے مجھے اس نے مئے عرفان خاص مفترض ! نازاں ہوں میں اس پر کہ مے خواروں میں ہوں پائی جاتی ہے وفا جو اُس میں مجھ میں وہ کہاں میں کہوں کس منہ سے اس کو میں وفاداروں میں ہوں اخبار الفضل جلد 12- 22 نومبر 1924 ء