کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 361

198 یا فاتیح رُوحِ ناز ہو جا یا تو ہمہ تن نیاز ہو جا خدمت میں ہی عشق کا مزا ہے محمود نہ بن ایاز ہو جا کر خانہ فکر کو مقفل ہاتھوں میں کسی کے ساز ہو جا ہے جنبر صراط پر تبرا پاؤں وا دیده و گوش باز ہو جا کوتاہ نگاہیاں یہ کب تک گیسو کی طرح دراز ہو جا جا دھونی رما دے اس کے در پر انجام سے بے نیاز ہو جا پیارے تجھے غیر سے ہے کیا کام آآ میرے دل کا راز ہو جا اخبار الفضل جلد 20- 3 جنوری 1933 ء 199 گو بحر گنہ میں بے بس ہو کہ پیہم غوطے کھاتے جاؤ دل مت چھوڑو پیارو اپنا سر کہروں میں اُٹھاتے جاؤ جس ذات سے پالا پڑتا ہے وہ دل کو دیکھنے والی ہے مایوس نہ ہو تم جتنا ڈولو اتنی امید بڑھاتے جاؤ اخبار الفضل مجلد 20- 3 جنوری 1933 ء 357