کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 346

مرے ہاتھوں تو پیدا ہو گئی ہیں الجھنیں لاکھوں جو سکھیں گی تو سبھیں گی تیرے دستِ مُروت سے میرا سردار کوثر بانٹنے بیٹھا ہے جب پانی تو دل میں خیال تک مت لاکہ دہ بانٹے گا ست سے میٹیا کے لیے لکھا ہے وہ شیطاں کو مارے گا نہ مارے گا وہ آئین سے کرے گا قتل حجت سے میری بخشش تو وابستہ ہے تیری چشم پوشی سے الہی رحم کہ مجھ پر مرا جاتا ہوں خفت سے مجھے تو اے خُدا دُنیا میں ہی تو بخش دے جنت تگی پا نہیں سکتا ، قیامت کی زیارت سے ترے در کے سوا دیکھوں نہ دروازہ کسی گھر کا کبھی مت کھینچیو ہاتھ اپنا تو میری کفالت سے نہ بھول اے ابنِ آدم اپنے دادا کی حکایت کو نکالا تھا اُسے ابلیس نے دھوکا سے جنت سے 342