کلام محمود مع فرہنگ — Page 13
گو کہ اُس دن پھیل جائے گی تباہی چار سُو جب کہ پھر آئیں گے یارو زلزلہ آنے کے دن پھر بھی مردہ ہے انھیں جو دین کے غم خوار ہیں وط کیونکہ وہ دن ہیں یقینا دیں کے پھیلانے کے دن يَا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَد وَأَنَا پکار اُٹھیں گے لوگ خود ہی منوائے گا سب سے یار منوانے کے دن اے عزیز دہلوی سُن رکھ یہ گوش ہوش سے پھر بہار آئی تو آئے زلزلہ آنے کے دن ہے دُعا محمود کی تجھ سے مرے پیارے خُدا ہو مُحافظ تو ہمارا خون دل کھانے کے دن اخبار الحکم بلد 10 - 24 جون 1906 ء 13