کلام محمود مع فرہنگ — Page 12
کس لیے خوش ہے یہ تجھ کو بات ہاتھ آئی ہے کیا یہ نہ خوش ہونے کے دن ہیں بلکہ تھرانے کے دن مہدی آخر زماں کا کس طرح ہو گا ظہور جب نہ آئیں گے کبھی اس دیں کے اٹھ جانے کے دن دینِ احمد پر اگر آیا زمانہ ضعف کا آچکے تب تو مسیح وقت کے آنے کے دن کچھ بھی گر عقل و خرد سے کام تولیتا تو یہ دیں ہیں جو ہیں بل پڑتے ہیں اُن کے سنبھانے کے دن تو تو ہنستا ہے مگر روتا ہوں میں اس فکر میں وہ میں اس دُنیا سے اک دنیا کے اُٹھ جانے کے دن جلد کر توبہ کہ پچھتانا بھی پھر ہو گا فضول ہاتھ سے جاتے رہیں گے جبکہ پچھتانے کے دن اک قیامت کا سماں ہو گا کہ جب آئیں گے وہ مال کی ویرانی کے اور جان کے کھانے کے دن 12