کلام محمود مع فرہنگ — Page 11
اک جہاں مانے گا اس دن ملت خیر الرسل اب تو تھوڑے رہ گئے اس دیں کے جھٹلانے کے دن چھوڑ دو سب عیش یارو اور فکرِ دیں کرو آج کل ہر گز نہیں ہیں پاؤں پھیلانے کے دن کچھ صلاحیت جو رکھتے ہو تو حق کو مان لو یاد رکھو دوستو یہ پھر نہیں آنے کے دن کبر و نخوت سے خُدا را باز آؤ تم کہ اب جلد آنے والے ہیں وہ آگ بھڑکانے کے دن نام لکھوا کر مسلمانوں میں تو خوش ہے عرب نیز مریکی سیچ کہتا ہوں ہیں یہ خون دل کھانے کے دن جس لیے یہ نام پایا تھا ، نہیں باقی وہ کام اب تو اپنے حال پر ہیں خود ہی شرمانے کے دن لوگوں کو غفلت کی تو ترغیب دیتا ہے مگر بھول جائے گا یہ سب کچھ تو سزا پانے کے دن 11