کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 333

راک طرف تیری محبت اک طرف دُنیا کا درد دل پھٹا جاتا ہے سینے میں ہے چہرہ زرد زرد ہیں لگے رہتے دُعاؤں میں وہ دن بھی رات بھی ہیں زمین و آسماں میں پھر رہے وہ رہ نورد تیرے بندے اسے خُدا ہیچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو بیماری لگی ہے وہ ہیں غافل سو رہے پر میدان کی فکر میں ہیں سخت بے کل ہو رہے ایک بیماری سے گھائی ایک فکروں کا شکار دیکھئے دُنیا میں باقی یہ رہے یا وہ رہے تیرے بندے اسے خدا ہیچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں یادہ عرفاں سے تیری ان کے سر مخمور ہیں جذبہ الفت سے تیرے ان کے دل مغمور ہیں سر ان کے سینوں میں اٹھا کرتے ہیں طوفاں سات دن وہ زمانہ بھر میں دیوانے ترے مشہور ہیں تیرے بندے اسے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں طاقت وقوت کے ایک ان کا منہ کرتے ہیں بند دین کی گندی کے وارث پھینکتے ہیں ان پر گند وہ ہر اک میاد کے تیروں کا بنتے ہیں ہدف جس کا بس چلتا ہے پہنچاتا ہے وہ ان کو گزند تیرے بندے اسے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں فکر خود سے فکر دُنیا کے لیے آزاد ہیں شاد کرتے ہیں زمانہ بھر کو خود ناشاد ہیں دنیا والوں کی نظر میں پر بھی ٹہرے میں حقیر ہیں گنہ لازم مگر سب نیکیاں برباد ہیں تیرے بندے اسے خُدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں 330