کلام محمود مع فرہنگ — Page 334
بند کر کے آنکھ دُنیا کی طرف سے آج وہ لکھ رہے ہیں تیرے دیں کی سن جہاں میں آج وہ تیری خاطرہ رہے ہیں ہر طرح کی ذلتیں پرادا کرتے نہیں شیطاں کو ہرگز باج دُہ تیرے بندے اسے خدا سچ ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں ساری دنیا سے ہے بڑھ کر حوصلہ ان کا بلند پھینکتے ہیں عرش کے گنگوروں پر اپنی کنند کیوں نہ ہو وہ صاحب معراج کے شاگرد ہیں آسماں پہ اڑ رہا ہے اس لیے ان کا سمند تیرے بندے اسے خدا ہی ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو بھی تھی بُرا دنیا وہی تیرے ہوئے شیر کی مانند اٹھے ہیں وہ اب پھرے ہوئے نام تیرا کر رہے ہیں ساری دنیا میں بکند جان تھیلی پر دھرے سر کفن باندھے ہوئے تیرے بندے اسے خدا تی ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں اخبار الفضل جلد 8 31 دسمبر 1954ء ربوہ۔پاکستان 331