کلام محمود مع فرہنگ — Page 10
5 ظہور مہدی دوراں مثلِ ہوش اُڑ جائیں گے اس زلزلہ آنے کے دن باغ احمد پر جو آئے ہیں یہ مُرجھانے کے دن یوں نہیں ہیں جھوٹی باتوں پر یہ اترانے کے دن پوش کر غافل کہ یہ دن تو ہیں گھبرانے کے دن سختیوں سے ہی جو جاگے گی تو جاگے گی یہ قوم اے غیبی ہرگز نہیں بیتکوے سہلانے کے دن مہدی آخر زماں کا ہو چکا ہے اب ظہور ہیں بہت جلد آنے والے دیں کے پھیلانے کے دن یہ شرارت سب دھری رہ جائے گی جب وہ خُدا ہوش میں لائے گا تم کو ہوش میں لانے کے دن طوطے اڑ جائیں گے ہاتھوں کے تمہارے غافلو اُس خُدائے مقدر کے چہرہ دکھلانے کے دن 10