کلام محمود مع فرہنگ — Page 305
گالیاں کھائیں ،بیٹے خوب ہی رُسوا بھی ہوئے عشق کی ایسی حلاوت ہے کہ جاتی ہی نہیں کیا ہوا ہاتھ سے اسلام کے نکلی جو نہیں دل پر وہ اس کی حکومت ہے کہ جاتی ہی نہیں وشو سے غیر نے ڈالے گئے اپنوں نے فساد میری تیری دُہ رفاقت ہے کہ جاتی ہی نہیں غیر بھی بیٹھے ہیں اپنے بھی ہیں گھیرا ڈالے مجھ میں اور تجھ میں وہ ملوث ہے کہ جاتی ہی نہیں پھینکتے رہتے ہیں اعداء میرے کپڑوں پر گند تو نے دی مجھ کو وہ نکہت ہے کہ جاتی ہی نہیں رنج ہوا غم ہو کوئی حال ہوا خوش رہتا ہوں دل میں کچھ ایسی طراوت ہے کہ جاتی ہی نہیں صدیوں سے ٹوٹ رہا ہے تیری دولت دجال دلبرا تیری وہ ثبوت ہے کہ جاتی ہی نہیں 303