کلام محمود مع فرہنگ — Page 304
161 سر پہ حاوی وہ حماقت ہے کہ جاتی ہی نہیں کفر و بدعت سے وہ رغبت ہے کہ جاتی ہی نہیں نہ خدا سے ہے محبت نہ محمد سے ہے پیار تم کو وہ دیں سے عداوت ہے کہ جاتی ہی نہیں نام اسلام کا ہے کفر کے ہیں کام تمام اس پہ پھر ایسی رعونت ہے کہ جاتی ہی نہیں تم نے تو بار مجھے نیچا دکھانا چاہا پہ میرے دل کی مروت ہے کہ جاتی ہی نہیں تم کو مُجھ سے ہے عداوت تو مجھے تم سے ہے پیار میری یہ کیسی محبت ہے کہ جاتی ہی نہیں ہر مصیبت میں دیا ساتھ تمہارا لیکن تم کو کچھ ایسی شکایت ہے کہ جاتی ہی نہیں تو یہ بھی ہو گئی مقبول حضوری بھی ہوئی یہ یر میرے دل کی ندامت ہے کہ جاتی ہی نہیں 302