کلام محمود مع فرہنگ — Page 288
ہوں صدر کہ شاہ کوئی بھی ہوں میں ان سے دب کر کیوں بیٹیوں سر کار مری ہے مدینہ میں یہ لوگ میری سند کار نہیں تو اس کے پیارے ہاتھوں کو اپنی گردن کا طوق بنا کیا تو نے گلے میں ڈالا ہے ذوالتار ہے یہ زنار نہیں اسلام یہ آفت آئی ہے لیکن تو غافل بیٹھا ہے وط ام دشمن پر یہ ثابت کر تو زندہ ہے مُردار نہیں جن معنوں میں وہ کہتا ہے قہار بھی ہے جبار بھی ہے جن معنوں میں تم کہتے ہو تہ آر نہیں جبا ر نہیں دوزخ میں جلنا سخت بڑا پر یہ بھی کوئی بات نہ تھی سو عیب کا اس میں عیب سے میگفتہ نہیں دیدار نہیں کچھ اس میں کشش ہی ایسی ہے دل ہاتھ سے نکل جاتا ہے ورنہ میں اپنی جان سے کچھ ایسا بھی تو بیزار نہیں جاں میری گھٹتی جاتی ہے دل پارہ پارہ ہوتا ہے تم بیٹھے ہو چپ چاپ جو یوں کیا تم میرے دلدار نہیں 286