کلام محمود مع فرہنگ — Page 282
143 آآ کہ تیری راہ میں ہم آنکھیں بچھائیں آآ کہ تجھے سینہ سے ہم اپنے لگائیں تو آئے تو ہم تجھ کو سر آنکھوں پہ ٹھائیں جاں نذریں دیں تجھ کو تجھ دل میں بسائیں آپ آکے محمد کی عمارت کو بنائیں ہم کفر کے آثار کو دنیا سے مٹائیں ہیں مغرب و مشرق کے تو معشوق ہزاروں بھاتی ہیں مگر آپ کی ہی مجھ کو ادائیں رحمت کی طرف اپنی نگہ کیجئے آ جانے بھی دیں کیا چیز ہیں یہ میری خطائیں میں جانتا ہوں آپ کے انداز تلطف مانوں گا نہ جب تک کہ مری مان نہ جائیں ہے چیز تو چھوٹی سی مگر کام کی ہے چیز دل کو بھی میرے اپنی اداؤں سے لبھائیں دے ہم کو یہ توفیق کہ ہم جان لڑا کر اسلام کے سر پر سے کریں دُور بلائیں ربوہ کو تیرا مرکز توحید بنا کر اک نعرہ تکبیر فلک بوس لگائیں پھرناف میں دنیا کی برا گاڑ دیں نیزہ پھر پرچم اسلام کو عالم میں اُڑائیں جس شان سے آپ آئے تھے مگر میں مری جاں اک بار اسی شان سے بیوہ میں بھی آئیں ریوہ رہے کعبہ کی بڑائی کا دُعا گو کعبہ کو پہنچتی رہیں ربوہ کی دُعائیں اخبار الفضل جلد 4 لاہور پاکستان 19 جنوری 1950 ء 280