کلام محمود مع فرہنگ — Page 271
132 ہوا زمانہ کی جب بھی کبھی بگڑتی ہے میری نگاہ تو بس جاکے تجھ پہ پڑتی ہے بدل کے بھیس معالج کا خود وہ آتے ہیں زمانہ کی جو طبیعت کبھی بگڑتی ہے زبان میری تو سہتی ہے اُن کے آگے گنگ نگاہ میری نگاہوں سے اُن کی لڑتی ہے الجھے اُلجھ کے میں گرتا ہوں دامن تر سے میری اُمیدوں کی بستی یونہی اُجڑتی ہے کبھی جو ناخنِ تدبیر میں ہلاتا ہوں مجھے شکنجہ میں قسمت میری جکڑتی ہے منٹ منٹ پہ میرا امتحان لیتے ہیں قدم قدم پرمصیبت یہ آن پڑتی ہے 269 اخبار الفضل میلد 2 لاہور پاکستان 6 جولائی 1948