کلام محمود مع فرہنگ — Page 253
120 تھے تعریف کے قابل ہیں یا رب تم سے دیوانے آباد ہوئے جن سے دُنیا کے ہیں ویرانے کب پیٹ کے دھندوں سے مسلم کو بلا فرصت ہے دین کی کیا حالت یہ اُس کی بلا جانے کے جو جانے کی باتیں تھیں اُن کو بھلایا ہے جب پوچھیں سبب کیا ہے کہتے ہیں خُدا جانے نتی سے خالی ہے دل عشق سے عاری ہے بیکار گئے اُن کے سب ساغر و پیمانے خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر فانوس ہی اندھا ہے یا اندھے ہیں پروانے فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اُجاڑا ہے آباد کریں گے اب دیوا نے یہ ویرانے ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رخ انور کیوں جمع یہاں ہوتے سب دنیا کے پروانے ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کر دوں انجام خُدا جانے 251 اخبار الفضل جلد 34 - 2 جنوری 1946 ء