کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 3

3 میاں احق کی شادی ہوئی ہے آج اسے لوگو ہر اک منہ سے یہی آواز آتی ہے مبارک ہو دعا کرتا ہوں میں بھی ہاتھ اٹھا کر حق تعالی سے کہ اپنی خاص رحمہ سے وہ اس شادی میں برکت سے خدایا اس کینی پر اور بنے پر فضل کر اپنا اور ان کے دل میں پیدا ہوش کردے دیں کی خدمت کا کلام پاک کی الفت کا ان کے دل میں گھر کر دے نبی سے ہو محبت او تعشق ان کو ہو تجھ سے ہر اک دشمن کے شر سے تو بچانا اے خدا ان کو ہمیشہ کے لیے رحمت کا تیری ان پر سایہ ہو ہمیشہ کے لیے ان پر ہوں یارب برکتیں تیری دعاکرتا ہوں یہ تجھ سے خدایا شن دعا میری انہیں صبح و مسار دیں اور دنیا میں ترقی دے نہ ان کوکوئی چھوٹا سا بھی آزار اور دکھ پہنچے عطا کر ان کو اپنے فضل سے صحت بھی اسے ولی ہمیشان پر بر سا اکبر اپنے فضل و رحمت کا یں اگلے شعر پر کرتاہوں تم اس ظلم کو یارو اب ان کے واسطے تم بھی خدا سے کچھ دعامانگو بہت بھایا ہے اسے محمود یہ مصرع مرسے دل کو مبارک ہو یہ شادی خانہ آبادی مبارک ہو اخبار بدر جلد 5 - 16 فروری 1906ء یہ نظم حضرت میر محمد اسحق ابن حضرت میر ناصر نواب اللہ تعالی آپ سے راضی ہو) کی تقریب شادی پر کہی گئی۔3