کلام محمود مع فرہنگ — Page 215
لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں تھا کہ سوگوار آیا ندیاں ہر طرف کو بہتی تھیں قلب صافی کا حال کہتی تھیں آبشاروں کی شکل میں گر کر صدمہ افتراق سہتی تھیں زخم دل ہو گئے ہرے میرے ہر چمن سے میں اشکبار آیا دیو داروں کی ہر طرف تھی قطار یاد کرتا تھا دیکھ کر قدِ یار لوگ دل کر رہے تھے ان پر نثار جان سے ہو رہا تھا میں بیزار لوگ سب شادمان و خوش آئے ایک میں تھا کہ سوگوار آیا ابر آتے تھے اور جاتے تھے دل کو ہر اک کے خُوب بھاتے تھے بھلیوں کی جنگ میں مجھ کو نظر جلوے اس کی ہنسی کے آتے تھے زخم دل ہو گئے ہرے میرے ہر چین سے میں اشکبار آیا شاخ گل پر ہزار بیٹھی تھی کانپتی بے قرار بیٹھی تھی 213