کلام محمود مع فرہنگ — Page 200
اپنے سینے سے لگا کہ میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا اس قدر محنت اُٹھا کہ دولت راحت لٹا کر تم کو پایا جاں گنوا کر اب تو میں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا آسماں شاہد نہیں کیا؟ میکہ اقرارِ وفا کا اے میری جاں میرے مولیٰ میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا تم ہو میری راحت جاں تم سے وابستہ ہے اناں زور سے پکڑوں گا داماں یں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا سُناتے ہو مجھے تم کیوں ستاتے ہو مجھے تم بس بناتے ہو مجھے تم میں تمھیں جانے نہ دوں گا میں تمھیں جانے نہ دوں گا 198