کلام محمود مع فرہنگ — Page 196
83 ترے در پر ہی میری جان نکلے خُدایا یہ میرا آزمان نکلے نکل جائے مری جاں خواہ تین سے نہ دل سے پر مرے ایمان نکلے ہوں اک عرصہ سے خواہانِ اجازت میرے بارے میں بھی فرمان نکلے میرے پاس آکے بلہ بیٹھ جاؤ کہ پہلو سے میرے شیطان نکلے سمجھتا تھا اِرادے ساتھ دیں گے مگر وہ بھی یونہی مہمان نکلے مجھے سب کو رنج و کلفت بھول جائے جو تیری دید کا آزمان نکلے گنوا دی قشر کی خواہش میں سب نمر دریغا ! ہم بہت نادان نکلے ہوا کیا سیر عالم کا نتیجہ پریشاں آئے تھے حیران نکلے ترے ہاتھوں سے اے نفس کوئی کسن جنھیں دیکھا وہی نالان نکلے کٹا دوں جان و مال و آبرو سب وہ میرے گھر کبھی تو آن نکلے نکلتی ہے مری جاں تو نکل جائے نہ دل سے کپہ ترا پیکان نکلے نہ پایا دوسرا تجھ سا کوئی بھی زمین و آسماں سب چھان نکلے غضب کا ہے ترا بین مخفی جنھیں دیکھا ترے خواہان نکلے تری نسبت سنے تھے جس قدر عیب وہ سارے جھوٹ اور بہتان نکلے 194