کلام محمود مع فرہنگ — Page 178
71 دل میرا بے قرار رہتا ہے سینہ میرا فگار رہتا ہے نیک و بد کا نہیں مجھے کچھ بوش سرمیں مہر دم خُمار رہتا ہے تیرے عاشق کا کیا بتائیں حال رات دن اشکبار رہتا ہے اس کی شب کا نہ پوچھ توجس کا دن بھی تاریک و تار رہتا ہے دل مرا توڑتے ہو کیوں جانی آپ کا اس میں پیار رہتا ہے کیا نوالی یہ رسم ہے، عاشق دے کے دل بے قرار رہتا ہے المدد ! ورنہ لوگ سمجھیں گے تیرا بندہ بھی خوار رہتا ہے مجھ کو گندہ سمجھ کے مت دختکار قرب محل میں ہی خار رہتا ہے ہے دل سوختہ کی بھاپ طبیب تو یہ سمجھا بُخار رہتا ہے وحشت عارضی ہے ورنہ حضور کہیں بندہ قرار رہتا ہے باب رحمت نہ بند کیجئے گا ایک امیدوار رہتا ہے اس کو بھی پھینک دیجئے گا کہیں ایک مٹھی غبار رہتا ہے فکر میں جس کی گھل رہے ہیں ہم اُن کو ہم سے نقار رہتا ہے اب ہی کاروبار رہتا ہے برکتیں دینا گالیاں سُننا فریبہ تن کس طرح سے ہو محمود رنج و غم کا شکار رہتا ہے 176 اخبار الفضل جلد 12-6 جون 1925ء