کلام محمود مع فرہنگ — Page 141
وہ بھی کچھ یار ہے جو یار سے یک جاں نہ کرے دہ بھی کیا یار ہے جو خوبیوں کی کان نہ ہو عشق کا لطف ہی جاتا رہے اسے ابلہ طبیب درد گر دل میں نہ ہو درد بھی پنہان نہ ہو طعنے دیتا ہے مجھے بات تو تب ہے واعظ اس کو تُو دیکھ کے آنگشت بدندان نہ ہو اے عدو منکر ترے کیوں نہ ضرر پہنچائیں ہاں اگر سر یہ میرے سایہ رحمان نہ ہو۔ہے یہ آئین سماوی کے منافی محمود عشق ہو وصل کا لیکن کوئی سامان نہ ہو اخبار الفضل - جلد 7 - 21 اکتوبر 1920 ء 140