کلام محمود مع فرہنگ — Page 140
خانہ دل کبھی آباد نہ ہو گا جب تک میزباں میں نہ بنوں اور وہ مہمان نہ ہو رند مجلس نظر آئیں نہ کبھی یوں مخمور جارم اسلام میں گر بادۂ عرفان نہ ہو کیس طرح مانوں کہ سب کچھ ہے خوانہ میں تھے پر ترے پاس میرے درد کا درمان نہ ہو ئیں تو بھوکا ہوں فقط دید رخ جاناں کا باغ فردوس نہ ہو روضہ رضوان نہ ہو یہ جو معشوق لیے پھرتی ہے اندھی دُنیا میرے محبوب سی ہی اُن میں کہیں آن نہ ہو عشق وہ ہے کہ جو تن من کو جلا کر رکھ دے ورد فرقت وہ ہے جس کا کوئی درمان نہ ہو کام وہ ہے کہ ہو جس کام کا انجام اچھا بات وہ ہے کہ جسے کہہ کے پشیمان نہ ہو 139