کلام محمود مع فرہنگ — Page 116
44 ندھے رہے نہ رہے تم نہ یہ بو باقی میں ایک دل میں رہے تیری آرزو باقی نہ منٹو پڑی ہے کیسی مصیبت یہ غنچہ دیں پر رہی وہ مشکل و شباہت نہ رنگ و بو باقی کہاں وہ مجلس عیش و طرب وہ راز و نیاز بس اب تو گھٹی ہے ایک گفتگو باقی وہ رگئی جو پوچھ لو کبھی اتنا کہ آرزو کیا ہے رہے نہ دل میں مرے کوئی آرزو باقی نہ ملا ہا ہوں خاک میں باقی رہ نہیں کچھ بھی مگر ہے دل میں مجیسے اُن کی جستجو باقی وہ گاؤں گا تری تعریف میں تراری یہ حمند رہے گا ساز ہی باقی نہ پھر گھو باقی گیا ہوں سوکھ غم بلت محمد میں رہا نہیں ہے مرے ہم میں کہو باقی قرون اولی کے مسلم کا نام باقی ہے نہ اُس کے کام ہیں باقی نہاس کی تو باقی خدا کے واسطے مسلم ذرا تو ہوش میں آ نہیں تو تیری رہے گی نہ آبرو باقی شکائتیں تھیں ہزاروں بھری پڑی دل میں رہی نہ ایک بھی پر اُن کے روبرو باقی 116 اخبار الفضل جلد 1 - 27 اگست 1913ء