کلام محمود مع فرہنگ — Page 95
ہمارا حافظ و ناصر ہو ہر دم ہمارے باغ کا تو باغباں ہو کرے اس کی اگر تو آب پاشی تو پھر ممکن نہیں بیم خزاں ہو ذلیل و خوار و رسوا ہو جہاں ہیں جو حاسد ہو عدو ہو بدگماں ہو عبادت میں کٹیں دن رات اپنے ہماراہ ہو تیرا آستاں ہو خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْلَى الْأَمَانِي ہماری اسے خدا کر دے وہ تقدیر کہ جس کو دیکھ کر حیراں ہو تذبیر وہ ہم میں قوت قدسی ہو پیدا جسے چھو دیں وہی ہو جائے اکسیر زباں مرہم بنے پیاروں کے حق میں مگر آغداء کو کاٹے میشل شمشیر وہ جذبہ ہم میں پیدا ہو اہلی جو دشمن ہیں کریں اُن کی بھی تسخیر دلوں کی ظلمتوں کو دور کر دیں ہماری بات میں ایسی ہو تاثیر گناہوں سے بچالے ہم کو یارب نہ ہونے پائے کوئی ہم سے تقصیر۔خضر بن جائیں اُن کے واسطے ہم جو ہیں بھولے ہوئے رستہ کے رہ گیر وہی بولیں جو دل میں ہو ہمارے خلاف فیل ہو اپنی نہ تقریر 95