کلام محمود مع فرہنگ — Page 86
37 وُہ قید نفْس دَنی سے مجھے چھڑائیں گے کب رہائی پنجہ غم سے مجھے دلائیں گے کب یہ صدمہ ہائے جُدائی اُٹھائے جائیں گے کب دل اور جان میرے اُن کی تاب لائیں گے کب وہ میرے چاک جگر کا کریں گے کب درماں جو دل پہ داغ لگے ہیں اُنھیں مٹائیں گے کب یونہی تڑپتے تڑپتے نہ دم نکل جائے کوئی یہ پوچھ تو آؤ مجھے بلائیں گے کب خوشی انہی کو ہے زیبا جو صاحب دل ہیں جو دل میں دب چکے پھروہ انہیں ہنسائیں گے کب وفا طریق ہے اُن کا وہ ہیں بڑے محسن لگا کے منہ نظروں سے مجھے گرائیں گے کب جو تم نے اُن کو بلانا ہو دل وسیع کرو بڑے وسیع ہیں وہ اس جگہ سمائیں گے کب 86