کلام محمود مع فرہنگ — Page 45
مگر آگے تلاش نروہاں ہے فلک سے تا منارہ آئیں جیسے ترقی احمدی فرقہ کی دیکھے بٹالہ میں جو اک پیر مغاں ہے نہ یوں حملہ کریں اسلام پر لوگ ہمارے منہ میں بھی آخر زباں ہے مُخالف اپنے ہیں گو زور پر آج مگر ان سے قوی تر پاسباں ہے یہ عیسی کی صداقت کا نشاں ہے مسلمانوں کی بد حالی کے غم میں دھر سینہ پر اک سنگ گراں ہے بد غم پریشاں کیوں نہ ہوں دشمن مسیحا کفر کی تیرے ہاتھوں میں عناں ہے نہیں دنیا میں جس کا جوڑ کوئی ہمارا پیشوا وہ پہلواں ہے کرے قرآن پر چشمک حسد سے کہاں دشمن میں بی تاب تواں ہے نہیں دنیا کی خواہش ہم کو ہرگز خدا دیں پر ہی اپنا مال وجاں ہے نہیں اسلام کو کچھ خوف محمود کہ اس گلشن کا احمد باغباں ہے اخبار بدر جلد 6 - 26 دسمبر 1907ء 45