کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 398

ہے محبت ایک پاکیزہ امانت اسے عزیز رعشق کی عزت ہے واجب عشق سے کھیلا نہ کر پھر میری نگاہ سمندر کی لہروں کی طرف اُٹھی جو چاند کی روشنی میں پہاڑوں کی طرح اٹھتی ہوئی نظر آتی تھیں اور میری نظر سمندر کے اس پاران لوگوں کی طرف اُٹھی جو فرانس کے میدان میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہر روز اپنی جائیں دے رہے تھے اور میں نے خیال کیا کہ ایک وہ بہادر ہیں جو اپنے ملکوں کی مرمت کے لئے یہ قربانیاں کر رہے ہیں، ایک ہندوستانی ہیں جن کو اپنی تن آسانیوں سے ہی فرصت نہیں اور مجھے اپنی مستورات کا خیال آیا کہ وہ کس طرح قوم کا بے کار عضو بن رہی ہیں اور حقیقی کوشش اور سعی سے محروم ہو چکی ہیں۔کاش کہ ہمارے مردوں اور عورتوں میں بھی جوش عمل پیدا ہو اور انہیں یہ احساس ہو کہ آخر وہ بھی تو انسان ہیں جو سمندر کی لہروں پر گواتے پھرتے ہیں اور اپنی قوم کی ترقی کے لئے جائیں دے رہے ہیں، جو میدانوں کو اپنے خون سے رنگ رہے ہیں اور ذرہ بھی پرواہ نہیں کرتے کہ ہمارے مرجانے سے ہمارے پسماندگان کا کیا حال ہو گا۔اور میں نے کہا۔ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی مالیت جا لہر سے دریا کی۔کچھ پروا نہ کر جب میں نے یہ شعر پڑھا میری لڑکی امتہ الرشید نے کہا ابا جان دیکھیں آپا دودی کو کیا ہو گیا ہے۔ہیں نے کہا کیا ہوا ہے۔اس نے کہا اس کا جسم تھر تھر کانپنے لگ گیا ہے میں نے پوچھا دودی تم کو کیا ہوا ہے اس نے جیسے بچیاں کہا کرتی ہیں کہا کچھ نہیں اور ہم سمندر کے پانی کے پاس سے ہٹ کر باقی ساتھیوں کے پاس آگئے اور وہاں سے گھر کو واپس چل پڑے۔امتہ الودود کی وفات کے بعد میں ہی شعر پڑھ رہا تھا کہ صدیقہ بیگم نے مجھے بتایا کہ امتہ الودود نے مجھ سے ذکر کیا کہ شاید چچا ابا نے یہ شعر میرے متعلق کہا تھا تب میں نے مرحومہ کے کانپنے کی وجہ کو سمجھ لیا۔وہ امتحان دے تھی اور کا چکی تھی اور تعلیم کا زمانہ ختم ہونے کے بعد اس کے عمل کا زمانہ شروع ہوتا تھا۔اس کی نیک فطرت نے اس شعر سے سمجھ لیا کہ میں اسے کہ رہا ہوں کہ اب تم کو عملی زندگی میں قدم رکھنا چاہیے اور ہر طرح کے خطرات برداشت کر کے اسلام کے لئے کچھ کر کے دکھانا چاہیے۔خدا کی قدرت عمل میں کامیابی کا منہ دیکھنا اس کے مقدر میں نہ تھا۔موت میں زندگی اللہ تعالیٰ نے اُسے دے دی وہ قادر ہے جس طرح چاہے اسے زندگی بخش دیتا ہے۔391