کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 397

رہتا ہے اور اس کا حوصلہ پست ہو جاتا ہے۔چونکہ چاند کے عکس کا اس طرح آگے آگے دوڑتے چلے جانے کا بہترین نظارہ کشتی میں بیٹھ کر نظر آتا ہے جو میلوں کا فاصلہ طے کرتی جاتی ہے مگر چاند کا عکس آگے ہی آگے بھاگا چلا جاتا ہے۔اس لئے میں نے کہا۔بیٹھ کر جب عشق کی کشتی میں آؤں تیرے پاس آگے آگے چاند کی مانند تو بھاگا نہ کر یکس نے اس شعر کا مفہوم دونوں بچیوں کو سمجھانے کے لئے ان سے کہا کہ آؤ ذرا میرے ساتھ سمندر کے پانی میں چلو اور میں انہیں لے کر کوئی پچاس ساٹھ گز سمندر کے پانی میں گیا اور میں نے کہا دیکھو چاند کا عکس کس طرح آگے آگے بھاگا جاتا ہے اسی طرح کبھی کبھی بندہ کی کوششیں اللہ تعالے کی ملاقات کے لئے بیکار جاتی ہیں اور وہ جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی اللہ تعالیٰ مجھے بہٹ جاتا ہے اور اس وقت سوائے اس کے کوئی علاج نہیں ہوتا کہ انسان اللہ تعالیٰ ہی سے رحم کی درخواست کرے اور اسی کے کرم کو چاہیے تاکہ وہ اس ابتلاء کے سلسلہ کو بند کر دے اور اپنی ملاقات کا شرف اسے عطا کرے۔اس کے بعد میری نظر چاند کی روشنی پر پڑھی، کچھ اور لوگ اس وقت کہ رات کے بارہ بجے تھے میر کے لئے سمندر پر آگئے ہوا تیز میل رہی تھی لڑکیوں کے برقعوں کی ٹوپیاں ہوا سے اڑی جارہی تھیں اور وہ زور سے ان کو پکڑ کہ اپنی جگہ پر رکھ رہی تھیں۔وہ لوگ گو ہم سے دور تھے مگر میں لڑکیوں کولے کر اور دُور ہو گیا اور مجھے خیال آیا کہ چاند کی روشنی جہاں دکشی کے سامان رکھتی ہے وہاں پر وہ بھی اٹھا دیتی ہے اور میرا خیال اس طرف گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کبھی بندہ کی کمزوریوں کو بھی ظاہر کر دیتے ہیں اور دشمن انہیں دیکھ کر مہنتا ہے اور میں نے اللہ تعالے کو مخاطب کر کے کہا۔اسے شعاع نور یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب غیر میں چاروں طرف ان میں مجھے رسوا نہ کر اس کے بعد میری نظر بندوں کی طرف اٹھ گئی اور میں نے سوچا کہ محبت جو ایک نہایت پاکیزہ جذبہ ہے اسے کس طرح بعض لوگ ضائع کر دیتے ہیں اور اس کی بے پناہ طاقت کو محبوب حقیقی کی ملاقات کے لئے خرچ کرنے کی جگہ اپنے لئے وبال جان بنا لیتے ہیں اور میں نے اپنے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔390