کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 396

و کیا لب دریا میری بے تابیاں کافی نہیں تو جگر کو چاک کر کے اپنے یوں تڑیا نہ کر اس کے بعد میری توجہ براہ راست اس محبوب حقیقی کی طرف پھر گئی جس کے حُسن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر میں اشارہ کیا گیا ہے اور میں نے اسے مخاطب کر کے چند شعر کہے جو یہ ہیں : دُور رہنا اپنے عاشق سے نہیں دیتا ہے زیب آسمان پر بیٹھ کر تو یوں مجھے دیکھا نہ کر وہ بے شک چاند میں سے کسی وقت اللہ تعالیٰ کا حسن نظر آتا ہے مگر ایک عاشق کے لئے وہ کافی نہیں۔" چاہتا ہے کہ اس کا محبوب چاند میں سے اُسے نہ جھانکے بلکہ اس کے دل میں آئے اس کے عرفان کی آنکھوں کے سامنے قریب سے جلوہ دکھائے، اس کے زخمی دل پر مرہم لگائے اور اس کے دُکھ کی دواخود ہی بن جائے کہ اس دوا کے سوا اس کا کوئی علاج نہیں مگر کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اس محبوب حقیقی کا عاشق چاند میں بھی اس کا جلوہ نہیں دیکھتا۔چاند میں ایک چھپکی ٹکیہ سے زیادہ کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس محبوب نے اپنا چہرہ اس سے بھی چھپارکھا ہے کہ کہیں اس میں سے اس کا عاشق اس کا چہرہ نہ دیکھ لے اور وہ کہتا ہے کہ کاش چاند کے پردہ پر سہی اس کا عکس نظر آجائے اور میں نے کہا۔مکش تیرا چاند میں گھر دیکھ لوں کیا عیب ہے راس طرح تو چاند سے اسے میری جاں پردہ نہ کر پھر میری نظر سمندر کی لہروں پر پڑی جن میں چاند کا عکس نظر آتا تھا اور میں اس کے قریب ہوا اور چاند کا عکس اور کیسے ہو گیا۔میں اور بڑھا اور مکس اور دُور ہو گیا اور میرے دل میں ایک درد اٹھا اور میں نے کہا۔بالکل اسی طرح کبھی سالک سے سلوک ہوتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے کوشش کرتا ہے مگر بظاہر اس کی کوششیں ناکامی کا منہ دیکھیتی ہیں، اس کی عبادتیں، اس کی قربانیاں ، اس کا ذکر، اس کی آہیں ئی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں کیونکہ اللہ تعالے اس کے استقلال کا امتحان لیتا ہے اور سالک اپنی کوششوں کو بے اثر پاتا ہے۔کئی تھوڑے دل والے مایوس ہو جاتے ہیں اور کئی ہمت والے کوشش میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کی مراد پوری ہو جاتی ہے مگر یہ دن بڑے ابتلاء کے دن ہوتے ہیں اور سالک کا دل ہر لحظہ مرجھایا 389