کلام محمود مع فرہنگ — Page 391
جو صداقت بھی ہو تم شوق سے مانو اس کو علم کے نام سے پر تابع اوہام نہ ہو آج کل یورپ سے جو آواز آوے اور وہ کسی فلاسفر اور سائنس دان کی طرف منسوب ہو تو جھٹ اس کا نام علیم رکھ لیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کہنے والوں کو علم کا دشمن کہا جاتا ہے۔یہ نادانی ہے۔جو بات مشاہدوں سے ثابت ہو اس کا انکار کرنا جہالت ہے لیکن بلا ثبوت صرف لبعض فاسفوں کی تھیوریوں کو علم سمجھ کر قبول کرنا بھی کم عقلی ہے۔اس وقت بہت سے یورپ کے نو ایجاد علوم تصیور یوں (قیاسات سے بڑھ کر حقیقت نہیں رکھتے ان کے اجزاء ثابت ہیں لیکن ان کو ملا کر جو نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہوتا ہے لیکن علوم جدیدہ کے کے شیدائی اس امر پر غور کئے بغیر ان وہموں کی اتباع کرنے لگ جاتے ہیں۔دشمنی ہو نہ محبانِ محمد سے تمہیں جو معاند ہیں تمہیں اُن سے کوئی کام نہ ہو مومن کا فرض ہے کہ بجائے حقارت اور نفرت سے کام لینے کے محبت سے کام لے اور امن کو پھیلائے۔مومن دنیا اسے جہاں کن من و تمام راوی میں جائز اور پلے کرنے کی کاوش کے مومن کا وطن سب دنیا ہے۔اس سے جہاں تک ممکن ہو تمام فریقوں میں جائز طور پر ضلع کرانے کی کوشش کرے اور قانون کی پابندی کرے۔امن کے ساتھ رہو فتنوں میں حصہ میت کو باعث فکر و پریشانی حکام نہ ہو اپنی اس عمر کو اک نعمت عظمی سمجھو بعد میں تاکہ تمھیں شکوہ انام نہ ہو حُسن ہر رنگ میں اچھا ہے مگر خیال رہے دانہ سمجھے ہو جسے تم وہ کہیں دام نہ ہو ہو اچھی بات خواہ دین کے متعلق ہو خواہ دنیا کے متعلق ہو اچھی ہی ہوتی ہے مگر بہت دفعہ بڑی باتیں اچھی شکل میں پیشیں کی جاتی ہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔انگریزی کی مثل ہے 384