کلام محمود مع فرہنگ — Page 392
تم مدیر ہو کہ جرنیل ہو یا عالم ہو ہم نہ خوش ہوں گے کبھی تم میں گر اسلام نہ ہو دنیاوی ترقی کے ساتھ اگر دین نہیں تو ہمیں کچھ خوشی نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر یہ اصل مقصد ہوتی تو پھر ہیں اسلام اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی پھر بیت جو اس وقت ہر قسم کے دنیاوی سامان رکھتی ہے اس کو کیوں نہ قبول کرلیتے۔سیلف اسپکٹ کا بھی خیال رکھو تم بیشک یہ نہ ہو پر کہ کسی شخص کا اکرام نہ ہو آج کل لوگ سیلف ریسپکٹ کے نام سے بزرگوں کا ادب چھوڑ بیٹھے ہیں۔حالانکہ صحیح عزت کے لئے ادب کا قائم رکھنا ضروری ہے۔اگر ادب نہ ہو تو تربیت بھی درست نہیں ہو سکتی۔سیلف ریسپکٹ کے تو یہ معنی ہیں کہ انسان کمینہ نہ بنے نہ کہ بے ادب ہو جائے۔عُسر بو ئیسر ہو تنگی ہو کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو بند مگر دعوت اسلام نہ ہو کسی زمانہ ، کسی وقت کسی حالت میں اسلام کی تبلیغ کو نہ چھوڑو۔ایک دفعہ اس کے خطرناک نتائج دیکھ چکے ہیں۔یہ تنگی تمھاری کوششوں کو سست کرے کہ ہر تکلیف سے نجات اسی کام سے وابستہ ہے اور نہ ترقی تم کو شست کر دے کیونکہ جب تک ایک آدمی بھی اسلام سے باہر ہے تمھارا فرض ادا نہیں ہوا اور ممکن ہے کہ وہ ایک آدمی کفر کا بیج بن کر ایک درخت اور درخت سے جنگل بن جائے۔تم نے دنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا نفس وحشی و جفا کیش اگر رام نہ ہو سب سے پہلا فرض اصلاح نفس ہے اگر اس کے مکلم ہوتے رہیں اور ان کی اصلاح نہ ہو تو دوسروں کی 385