کلام محمود مع فرہنگ — Page 387
فکر رکھو اور ان کو نصیحت کر کہ وہ اگلوں کی فکر رکھیں اور اسی طرح یہ سلسلہ ادائے امانت کا ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتا چلا جاوے تاکہ یہ دریائے فیض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا ہے ہمیشہ جاری رہے اور ہم اس کام کے پورا کرنے والے ہوں جس کے لئے آدم اور اس کی اولاد پیدا کی گئی ہے۔خدا تمھارے ساتھ ہو۔اللهم آمين کو نہالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو تاکہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی اندام نہ ہو جب گزر جائیں گے ہم تم پہ پڑے گا سب بار شہستیاں ترک کر وطالب آرام نہ ہو جب تک انسان کسی کام کا عادی اپنے آپ کو نہ بنائے اس کا کرنا دو بھر ہو جاتا ہے۔لیس یہ غلط خیال ہے کہ جب ذمہ داری پڑے گی دیکھا جائے گا۔آج ہی سے اپنے آپ کو خدمت دین کی عادت ڈالنی چاہیئے۔خدمت دین کو اک فضل الہی جانو اس کے بدلے میں کبھی طلب انعام نہ ہو کبھی خدمت دین کر کے اس پر فخر نہیں کہنا چاہیئے یہ خدا کا فضل ہوتا ہے کہ وہ کسی کو خدمت دین کی توفیق دے نہ بندہ کا احسان کہ وہ خدمت دین کرتا ہے۔اور یہ تو حد درجہ کی بیوقوفی ہے کہ خدمت دین کر کے کسی بندہ پر احسان رکھے یا اس سے کسی خاص سلوک کی امید رکھے۔ول میں ہو سوز تو آنکھوں سے واں ہوں آنسو تم میں اسلام کا ہو مغز ، فقط نام نہ ہو سری نخوت نہ ہو آنکھوںمیں نہ ورق نیت دل میں کینہ نہ ہول کبھی دشنام نہ ہو 381