کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 380

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمد احمد خليفة السیح الثانی کے اپنی بعض نظموں کے بارے میں نوٹس مثل ہوش اُڑ جائیں گے اُس زلزلہ آنے کے دن نظم نمبر 5 جہاں چند آدمی مل کر بیٹھیں گے ضروری ہے کہ اُن میں کوئی بد روح بھی ہو کیونکہ جیسے نیکی کا اثر خدا کی طرف سے بندہ پر پڑتا ہے ویسا ہی کچھ خبیث اثر بد روحوں کا بھی ہونا ضروری ہے۔بلکہ یہ زیادہ ہوتا ہے۔کیونکہ انسان کی فطرت کمزور ہے۔اس لئے جب اُسے کچھ سبز باغ دکھائے جائیں تو ظن غالب ہے کہ وہ اپنے جامہ عقل و خرد کو چاک کر کے اُس آواز کی طرف جو کہ اس کو ایک تاریک گڑھے کی طرف بلاتی ہے چلا جائے۔مگر جس کو خدا توفیق دے۔اور مشاہدہ ایسا ہی ثابت کرتا ہے۔کیونکہ ہمیشہ اور ہر زمانہ میں منافق اور فاسق فاجر زیادہ ہوتے ہیں اور خدا کی پرستش کرنے والے اور بُری باتوں سے بچنے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی جن کی قوت قدسیہ سب سے بڑھی ہوئی ہے صرف ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمی ہی ایسے نکلے جنہوں نے کہ خدا کی آواز کوشنا اور قبول کیا۔ہاں ! یہ ضروری امر ہے کہ جب خدائی آواز آئے تو اُس کے مقابل میں ایک شیطانی آواز بھی آئے جو کہ انسان کو اس نیک کام کی طرف جس کو وہ اختیار کرنے والا ہو روکنے کی کوشش کرتی ہے اس وقت اُس کا تازہ نمونہ ہمارے سامنے پیش ہے کیونکہ جب حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو نے ایک عظیم الشان زلزلہ کی خبر خدائے علیم وخبیر سے پاکر دنیا میں شائع کی تاکہ پیشتر اس کے کہ عذاب آئے حجت قائم کر دی جائے تاکہ کفار کا قیامت کے دن یہ عذر نہ رہے کہ ہم نے وہ آواز ہی نہیں سنی جس نے ہم کو نیکی کی طرف بلایا ہو اور تاکہ شاید کوئی نیک رُوح اُس سے متاثر ہو کہ اس عذاب عظیم سے بچ جائے لیکن اس غم خواری و دل سوزی کا نتیجہ یہ ہو کہ اس روحانی آواز کے مقابلہ میں ایک شیطانی آواز بھی اٹھی میں نے چاند پر غبار ڈالنے کی بہت کچھ کوشش کی لیکن کیا ممکن ہے۔کیا کبھی اس سے پہلے ایسا ہوا۔یہاں کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اس سے کیا کرنا چاہتے ہیں یا کریں گے یا جنہوں نے اس زمانہ میں ایسا کیا ہے ضرور ضرور اپنے کئے کو پہنچ گئے اور وہ خدا جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے اُن کو مستزاد یے بغیر نہیں رہے گا۔کیونکہ انہوں نے اس کے ناموروں 374