کلام محمود مع فرہنگ — Page 16
بھنبھناہٹ جو اُنھوں نے یہ لگا رکھتی ہے چیز کیا ہیں یہ مخالف تو ہیں کیشہ سے بھی کم کر نہیں سکتے یہ کچھ بھی تیرا اے شاہ جہاں! ہفت خواں بھی جو یہ بن جائیں تو تو ہے رستم چرخ نیلی کی کمر بھی تیرے آگے ہے ختم رفیل کیا چیز ہیں اور کس کو ہیں کہتے منیفم جس کا جی چاہے مقابل پہ ترے آدیکھے دیکھنا چاہتا ہے کوئی اگر ملک عدم حیف ہے قوم ترے فعلوں پر اور عقلوں پر دوست ہیں جو کہ ترے اُن پہ تو کرتی ہے ستم ہائے اُس شخص سے تو بغض و عداوت رکھے رات دن جس کو لگا رہتا ہے تیرا ہی غم نام تک اُس کا بیٹا دینے میں ہے تو کوشاں اس کا ہر بار مگر آگے ہی پڑتا ہے قدم 16