کلام محمود مع فرہنگ — Page 370
باغ کفار سے ہم نت نئے پھل کھاتے ہیں دل ہی دل میں وہ جسے دیکھ کے جل جاتے ہیں یہ نہ سمجھو کہ وہ بن کھائے پیے جیتے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں مگر نیزوں کے پھل کھاتے ہیں بدر 18 فروری 1905 لیکھو سے کہا تھا جو ہوا وہ پورا کیا تم نے وہ دیکھی نہیں مرزا کی دُعا اب بھی کرو انکار تو حیرت کیا ہے مشہور ہے بے شرم کی ہے دُور بلا بدر 6 مارچ 1907ء چھ مارچ کو لیکھو نے اُٹھایا کنگر دُنیا سے کیا کوچ سُوئے نارِ سَقَرْ تھی موت کے وقت اس کی یہ طرفہ حالت لب پہ تھی اگر آہ تو تن میں خنجر یہ آریہ کہتے ہیں کہ لیکھو ہے شہید ایسی تو نہ تھی ہم کو بھی اُن سے اُمید تھی موت وہ ذلت کی شہادت کیسی کیا جن پر پڑے قہر خُدا میں وہ شہید؟ بدر 21 مارچ 1907ء کہتا ہے زاہد کہ میں فرماں روائی چھوڑ دوں گر خُدا مجھ کو ملے ساری خدائی چھوڑوں واند تسبیح اور اشکوں کا مطلب ہے اگر آب و دانہ کے لیے سب پارسائی چھوڑ دوں بدر 18 فروری 1909 365