کلام محمود مع فرہنگ — Page 330
ورثہ نبوی کے ڈر سے مولوی کا اخترام الفت پدری کی خاطراستیدوں کے ہیں تمام جو بھی کچھ ہے غیر کا ہے ان کی حالت ہے تو یہ دولت غیبی سے خالی نعمت دنیا حرام تیرے بندے اسے غداد نیا میں کچھ ایسے بھی ہیں یاد ہیں قرآن کے الفاظ تو ان کو تمام اور پوچھیں توایں کہتے یہ ہے اللہ کا کلام پر یقیں مفقود ہے ایمان ے بالکل ہی نام علم و عزاں کی غذان پر ہے خفا ہی رام قطعا تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں مال سے ہے جیب خالی علم سے خالی ہے پھر یاد خالق سے ہے غفلت رہتی ہے فکر دیگر مال خود بر باد و ویراں مال دیگر پر نظر منزل آخر سے غافل پھر رہے ہیں در بدر تیرے بندے اسے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں ہے قدم دُنیا کا ہر دم آگے آگے جا رہا تیز تر گردش میں ہیں پہلے سے اب ارض و سما جارہا آج کوئی بھی نظر آتا نہیں سکن ہمیں ایک مسلم ہے کہ ہے آرام سے بیٹھا ہوا تیرے بندے اسے خُدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں - فکر انسانی فلک پر اُڑ رہا ہے آج کل فلسفہ دکھلا رہا ہے خوب اپنا زور و بل پر رہا پر مسلماں راستہ پر محو حیرت ہے کھڑا کہہ رہا ہے اُس کو ملا اک قدم آگے نہ چل 328