کلام محمود مع فرہنگ — Page 316
171 دُنیا میں یہ کیا فتنہ اُٹھا ہے میرے پیارے ہر آنکھ کے اندر سے نکلتے ہیں شرارے یہ منہ ہیں کہ آئین گروں کی دھونکنیاں ہیں دل سینوں میں ہیں یا کہ سپیروں کے پارے راتیں تو ہوا کرتی ہیں رائیں ہی ہمیشہ کر ہم کو نظر آتے ہیں اب دن کو بھی تارے پر ہے امن کا داروغہ بنایا جنہیں تو نے خود کر رہے ہیں فتنوں کو آنکھوں سے اشارے خود اسلام کے شیدائی ہیں خوں ریزی پر مائل ہاتھوں میں جو بنجر ہیں تو پہلو میں گنا رے سچ بیٹھا ہے اک کونے میں منہ اپنا جھکا کر اور جھوٹ کے اُڑتے ہیں فضاؤں میں مارے نکنم دستم و جوز بڑھے جاتے ہیں حد سے ان لوگوں کو اب تو ہی سنوارے تو سنوارے طوفان کے بعد اُٹھتے چلے آتے ہیں طوفاں لگنے نہیں آتی ہے میری کشتی کنا رے گر زندگی دینی ہے تو دے ہاتھ سے اپنے کیا جینا ہے یہ جیتے ہیں غیروں کے سہارے 314 اخبار الفضل جلد 6 لاہور پاکستان 5 اگست 1952ء