کلام محمود مع فرہنگ — Page 298
155 ارادے غیر کے ناگفتنی ہیں نگاہیں زھر میں ڈوبی ہوئی ہیں حقارت کی نگاہیں ہیں سکڑتی محبت کی نگاہیں پھیلتی ہیں اُمیدوں کو نہ مار اے دشمن جاں اُمیدیں ہی تو مغز زندگی ہیں محبت سے تجھے ہے روکتا کون محبت کی شرائط پر کڑی ہیں کوئی ملتا نہیں دُنیا کو انہبر نگاہیں آکے مجھ پر ہی ٹکی ہیں 296 اخبار الفضل جلد 5 لاہور پاکستان 18 جولائی 1951 ء