کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 287

148 عقبی کو بُھلایا ہے تو نئے تو احمق ہے ہشیار نہیں یہ تیری ساری کہانی بے کار ہے گرہ کردار نہیں اس یار کے در پر جانا کچھ مشکل نہیں کچھ دشوار نہیں اُس طرف جو راہیں جاتی ہیں وہ ہرگز نا ہوار نہیں میں اس کا ہاتھ پکچھ کرنہ افلاک سے اُونچا اڑنا ہوں پر میرے دشمن کا کوئی دربار نہیں سند کار نہیں دہ خاک سے پیدا کرتا ہے وہ مُردے زندہ کرتا ہے جو اس کی راہ میں مرتا ہے وہ زندہ ہے مُردار نہیں تم انسانوں کے چیلے ہو ئیں اس کے در کا ریزہ ہوں یں عالم ہوں میں فاضل ہوں پر سر پھرئے نتار نہیں جادو ہے میری نظروں میں تاثیر ہے میری باتوں میں میں سب دُنیا کا فاتح ہوں ہاتھوں میں مگر تلوار نہیں میں تیز قدم ہوں کاموں میں بجلی ہے مری رفتار نہیں میں مظلوموں کی ڈھارش ہوں مز یکم سے بری گفتار نہیں 285 &