کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 259

مَن يُخْجِلُ الْوَرَدَ الطَّرِقَ بِلَوْنِهِ عَيْنَايَ حَامِيَتَانِ أَوْخَذَاكَ اپنے سرخ رن سے تر و تازه گل گلاب کو کون شرما رہاہے میری دونوں خونبار آنکھیں یا تیرے سرخ رخسار مِنكَ السكون وكل رَوْحِ وَرَوَاحَةِ مَن ذَا الَّذِي لاينبغي لقياك سکون اور قسم کا آرم و راحت تجھی سے ملتا ہے تو پھر وہ کون ہے جو تیرے دیدار کا طالب نہ ہو يَا مَنْ تَخَافُ عَدُوكَ مُتَزَحْزِهَا عِنْدَ الْمَلِيكِ الْمُقْتَدِرِ مَثْوَاكَ لے وہ شخص جو یمن سے گھراتا اور ڈرا ہے تجھے ڈنے کی کی وجہ ہے تو لائے ایک مقدر کے پاس بھی ہے عَطِشَتْ قُلُوبُ الْعَاشِقِيْنَ لِرَاحِكَ فَأَدِنَكُؤُسَكَ وَاسْقِ مِنْ سُفْيَاكَ عاشقوں دل تیری شرائے لیتے تڑپ رہے ہں ہی ان کی میں میں نے پاوں اور ا ا و ر ا ت کی تقسیم سے ان کو بھی حقیت سے اخبار الفضل جلد 2 لاہور پاکستان 2 جنوری 1948 ء 257