کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 237

107 زخم دل جو ہو چکا تھا مدتوں سے مندمل پھر ہرا ہونے کو ہے وہ پھر ہرا ہونے کو ہے ވ پھر میرے سر میں لگے اُٹھنے خیالات جنوں فتنہ محشر میرے دل میں بپا ہونے کو ہے پھر مری شامت کہیں سے جاری ہے کھینچ کر کیا کوئی پھر مائل جور و جفا ہونے کو ہے پھر کسی کی تیغ ابرو اُٹھ رہی ہے بار بار پھر مرا گھر مورد کرب وبلا ہونے کو ہے پھر بہا جاتا ہے آنکھوں سے میری اک سیل اشک پھر میرے سینہ میں اک طوفاں بپا ہونے کو ہے پھر چھٹا جاتا ہے ہاتھوں سے مرے دامان صبر نالہ آہ و فغاں کا باب وا ہونے کو ہے معمر گزرے گی میری کیا یونہی اُن کی یاد میں کیا نہ رکھیں گے قدم وہ اس دلِ ناشاد میں اخبار الفضل جلد 30-1 جنوری 1942 ء 235