کلام محمود مع فرہنگ — Page 235
106 میری رات دن بس یہی اک صدا ہے کہ اس عالم گون کا اک خُدا ہے اُسی نے ہے پیدا کیا اس جہاں کو ستاروں کو سُورج کو اور آسماں کو دہ ہے ایک اس کا نہیں کوئی ہمسر وہ مالک ہے سب کا وہ حاکم ہے سب پر وہ نہ ہے باپ اُس کا نہ ہے کوئی بیٹا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا نہیں اُس کو حاجت کوئی بیویوں کی ضرورت نہیں اس کو کچھ ساتھیوں کی ہر اک چیز پر اس کو قدرت ہے حاصل ہر اک کام کی اُس کو طاقت ہے حاصل پہاڑوں کو اس نے ہی اُونچا کیا ہے سمندر کو اس نے ہی پانی دیا ہے یہ دریا جو چاروں طرف بہہ رہے ہیں اسی نے تو قدرت سے پیدا کیے ہیں سمندر کی مچھلی ہوا کے پرندے گھریلو چرندے بنوں کے درندے سبھی کو وہی رزق پہنچا رہا ہے ہر اک اپنے مطلب کی نئے کھا رہا ہے ہر اک شے کو روزی وہ دیتا ہے ہر دم خزانے کبھی اس کے ہوتے نہیں کم وُہ زندہ ہے اور زندگی بخشتا ہے وہ قائم ہے ہر ایک کا آسرا ہے کوئی شے نظر سے نہیں اس کے مخفی بڑی سے بڑی ہو کہ چھوٹی سے چھوٹی دلوں کی چھپی بات بھی جانتا ہے بدوں اور نیکوں کو پہچانتا ہے 233