کلام محمود مع فرہنگ — Page 204
87 میں اپنے پیاروں کی نسبت ہر گز نہ کروں گا پسند کبھی وہ چھوٹے درجہ پہ راضی ہوں اور اُن کی نگاہ رہے نیچی وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شیروں کی طرح فراتے ہوں ادنی سا قصور اگر دیکھیں تو منہ میں کف پھر لاتے ہوں وُہ چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اُمید لگائے بیٹھے ہوں وُه اوئی اوئی خواہش کو مقصود بنائے بیٹھے ہوں شمشیر زباں سے گھر بیٹھے دشمن کو مارے جاتے ہوں میدان عمل کا نام بھی لو تو چھینتے ہوں گھراتے ہوں گیدڑ کی طرح وہ تاک میں ہوں شیروں کے شکار پر جانے کی اور بیٹھے خوابیں دیکھتے ہوں وہ ان کا جوٹھا کھانے کی اے میری الفت کے طالب! یہ میکر دل کا نقشہ ہے اب اپنے نفس کو دیکھ لے تو وہ ان باتوں میں کیسا ہے گر تیری ہمت چھوٹی ہے گر تیرے ارادے مُردہ ہیں گر تیری اُمنگیں کو تہ ہیں گھر تیرے خیال افزدہ ہیں 202