کلام محمود مع فرہنگ — Page 170
67 صید و شکار غم ہے تو مسلم خستہ جان کیوں اُٹھ کئی سب جہان سے تیرے لیے آمان کیوں بیٹھنے کا تو ذکر کیا ، بھاگنے کو جگہ نہیں ہو کے فراخ اس قدر تنگ ہوا جہان کیوں ڈھونڈتے ہیں تجھی کو کیوں سارے جہاں کے ابتلا پیتی ہے تجھی کو ہاں گردش آسمان کیوں کیوں بہنیں پہلی رات کا خواب تری بڑائیاں قصه مامعنی ہوئی تیری وہ آن بان کیوں ہاتھ میں کیوں نہیں وہ زور بات میں کیوں نہیں اثر ؟ چھینی گئی ہے سیلف کیوں کاٹی گئی زبان کیوں؟ واسطہ جہل سے پڑا وہم ہوا رفیق دہر علم کدھر کو چل دیا ، جاتا رہا بیان کیوں رہتی ہیں بے شمار کیوں تیری تمام محنتیں تیری تمام کوششیں جاتی ہیں رائیگان کیوں 168