کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 164

داغ بدنامی اُٹھائے گا جو حق کی خاطر آسماں پر وہی چکے گا ستارا ہو کر غیر ممکن ہے کہ تو مائدہ سلطاں پر کھا سکے خوانِ ہدایت سگِ دُنیا ہو کر قلب عاصی جو بدل جائے تو کیوں پاک نہ ہو ئے اگر طیب و صافی بنے سیر کہ ہو کہ حق نے محمود ترا نام ہے رکھا محمود چاہیے تجھ کو چمکنا ید بیضا ہو کر اخبار الفضل جلد 11 - 4 جنوری 1924 ء 163