کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 99

ابر باراں کی طرح آنکھیں ہیں میری اشک بار ہے گریباں چاک گر میرا تو دامن تار تار ئیں جو ہنستا ہوں تو ہے میری ہنسی بھی برق کش جس کے پیچھے پھر مجھے پڑھتا ہے رونا بار بار مات کرتا ہے میرا دن بھی اندھیری رات کو میری شب کو دیکھ کر زُلف حسیناں شرمسار میری ساری آرزوئیں دل ہی دل میں مرگئیں میرا سینہ کیا ہے لاکھوں حسرتوں کا ہے مزار ہو گیا میری تمناؤں کا پودا خشک کیوں کیا بلا اس پر پڑی جس سے ہوا ہے برگ وبار کیوں میں میدانِ تفکر میں برہنہ پا ہوا کیوں چلے آتے ہیں دوڑے میری پابوسی کو خار اپنے ہم چشموں کی آنکھوں میں ٹنگ کیوں ہو گیا دیده اغیار میں ٹھہرا ہوں کیوں بے اعتبار 99 99