کلام محمود مع فرہنگ — Page 100
دشت غربت میں ہوں تنہا رہ گیا باحالِ زار چھوڑ کر مجھ کو کہاں کو چل دیئے اغیار دیار کچھ خبر بھی ہے تمھیں مجھ سے یہ سب کچھ کیوں ہوا کیوں ہوئے اتنے مصائب مجھ سے آکر ہمکنار کیا قصور ایسا ہوا جس سے ہوا معتوب ہیں کیا کیا جس پر ہوئے چاروں طرف سے مجھ پہ وار اک رُخ تاباں کی اُلفت میں پھنسا بیٹھا ہوں دل اپنے دل سے اور جاں سے اس سے ہیں کرتا ہوں پیار وہ مری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے دل کا نور ہے ہے خدا اس شعله رو پر میری جاں پروانہ وار اُس کا اک اک لفظ میرے واسطے ہے جانفزا اُس کے اک راک قول سے گھٹیا ہے دُر شاہوار ایک کون کہنے سے پیدا کر دیئے اس نے تمام یہ زمیں یہ آسماں یہ دوره لیل و نهار 100