کلام محمود مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 555

کلام محمود مع فرہنگ — Page 91

ہماری فتح و نصرت دیکھ کر وہ غم و رنج و مصیبت سے ہوئے چور ہماری رات بھی ہے نور افشاں ہماری صبح خوش ہے شام مسرور خُدا نے ہم کو وہ جلوہ دکھایا جو موسی کو دکھایا تھا طور ہلے ہم کو وہ اُستاد و خلیفہ کہ سارے کہ اُٹھے نُورٌ عَلَے نُور خُدا نے ہم کو دی ہے کامرانی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَوْلَى الْآمَانِي خُدا کا اس قدر ہے ہم یہ احساں کہ جس کو دیکھ کر ہوں سخت حیراں نہیں معلوم کیا خدمت ہوئی تھی کہ سکھلایا کلام پاک یزداں ہزاروں ہیں کہ ہیں محروم اس سے نظر سے جن کی ہے وہ نور پنہاں جسے اس نور سے حصہ نہیں ہے نہیں زندوں میں ہے وہ جسم بے جاں یہی دل کی تسلی کا ہے مُوجب اسی سے ہو میسر دیدر جاناں اسی میں مردہ دل کی زندگی ہے یہی کرتا ہے ہر مشکل کو آساں یہ ہے دنیا میں کرتا رہنمائی یہ عقی میں کرے گا شاد و فرحاں یہی ہر کامیابی کا ہے باعث ہی کہتا ہے ہر مشکل کو آساں لاتا ہے یہی اس دلڑیا سے یہی کرتا ہے زائل دردِ ہجراں 91